Skip to main content

بحیرہ راھب کا واقعہ

             


                                  ﷽

     

                          سیرت النبی ﷺ

 



                   🔴بحیرا راہب کا قصہ🔴


       یہ روایت مختلف پیرایوں میں بیان کی گئی ہے تعجب یہ ہے کہ اس روایت سے جس قدر عام مسلمانوں کو شغف ہے اس سے زیادہ عیسائیوں کو ہے ، سرولیم میور، ڈر پیر، مرگولوس، وغیرہ سب اس واقعہ کو عیسائیت کی عظیم خیال کرتے ہیں اور اس بات کے مدعی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کے حقائق واسرار اسی راہب سے سیکھے اور جو نکتے اس نے بتا دیے تھے انہی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عقائد اسلام کی بنیاد رکھی ، اسلام کے تمام عمدہ اصول انہی نکتوں کے شروح اور حواشی ہیں ۔


       عیسائی مصنفین اگر اس روایت کو صحیح مانتے ہیں تو اس طرح ماننا چاہیے جس طرح روایت میں مذکور ہے، اس میں بحیرا کی تعلیم کا کہیں ذکر نہیں، قیاس میں بھی نہیں آسکتا کہ دس بارہ برس کے بچے کو مذہب کے تمام دقائق سکھا دیئے جائیں اور اگر کوئی خرق عادت تھا تو بحیرا کے تکلیف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟


     لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت نا قابل اعتبار ہے۔ اس روایت کے جس قدر طریق ہیں، سب مرسل ہیں، یعنی راوی اول واقعہ کے وقت خود موجود نہ تھا اور اس راوی کا نام نہیں بیان کرتا جو شر یک واقعہ تھا۔


اس روایت کا سب سے زیادہ مستند طریقہ یہ ہے جو ترمذی میں مذکور ہے، اس کے متعلق تین باتیں قابل لحاظ ہیں:


① ترمذی نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے کہ حسن اور غریب ہے اور ہم اس حدیث کو اس طریقہ کے سوا کسی اور طریقہ سے نہیں جانتے۔“ حسن کا مرتبہ صحیح حدیث سے کم ہوتا ہے اور جب غریب ہو تو اس کا رتبہ اس سے بھی گھٹ جاتا ہے۔


② اس حدیث کا ایک راوی عبد الرحمان بن غزوان ہے، اس کو بہت سے لوگوں نے اگرچہ ثقہ بھی کہا ہے۔ لیکن اکثر اہل فن نے اس کی نسبت بے اعتباری ظاہر کی ہے، علامہ ذہبی، میزان الاعتدال (ج ۲ ص ۱١٣) میں لکھتے ہیں کہ عبدالرحمن منکر حدیثیں بیان کرتا ہے، جن میں سب سے بڑھ کر منکر وہ روایت ہے جس میں بحیرا کا واقعہ مذکور ہے۔


 ③ حاکم نے مستدرک میں اس روایت کی نسبت لکھا ہے کہ یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرائط کے مطابق ہے۔ علامہ ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں حاکم کا یہ قول نقل کر کے لکھا ہے کہ ”میں اس حدیث کے بعض واقعات کو موضوع ، جھوٹا اور بنایا ہوا خیال کرتا ہوں ۔‘


④ اس روایت میں مذکور ہے کہ حضرت بلال اور ابو بکر  بھی اس سفر میں شریک تھے ، حالانکہ اس وقت بلال کا وجود بھی نہ تھا اور حضرت ابو بکر بچے تھے۔


⑤ اس حدیث کے اخیر راوی ابو موسی اشعری ہیں، وہ شریک واقع نہ تھے اور اوپر کے راوی کا نام نہیں بتاتے ،ترمذی کے علاوہ طبقات ابن سعد میں جو سلسلہ سند مذکور ہے، وہ مرسل یا معضل ہے یعنی جو روایت مرسل ہے اس میں راوی جو ظاہر ہے کہ شریک واقع نہیں ہے ، کسی صحابی کا نام نہیں لیتا ہے اور جو روایت معضل ہے اس میں راوی اپنے اوپر کے دو راوی جو تابعی اور صحابی ہیں دونوں کا نام نہیں لیتا ہے۔


⑥ حافظ ابن حجر روات پرستی کی بنا پر اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں لیکن چونکہ حضرت ابوبکر اور بلال  کی شرکت بداہتا غلط ہے۔ اس لئے مجبورا اقرار کرتے ہیں کہ اس قدر  حصہ غلطی سے روایت میں شامل ہو گیا ہے لیکن حافظ ابن حجر کا یہ ادعا بھی صحیح نہیں کہ اس روایت کے تمام روات قابل سند ہیں ، عبدالرحمان بن غزوان کی نسبت خود انہی حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب (ج۲ ص:٤٢٨) میں لکھا ہے کہ ”وہ خطا کرتا تھا، اس کی طرف سے اس وجہ سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نے ممالیک کی روایت نقل کی ہے۔“ ممالیک کی ایک روایت ہے جس کو محدثین جھوٹ اور موضوع خیال کرتے ہیں ۔



    🔴حرب فجار کی شرکت🔴


        عرب میں اسلام کے آغاز تک لڑائیوں کا جو متواتر سلسلہ چلا آتا ہے، ان میں یہ جنگ سب سے زیادہ مشہور اور خطرناک ہے۔


     یہ لڑائی قریش اور قیس قبیلہ میں ہوئی تھی ۔ قریش کے تمام خاندانوں نے اس معرکہ میں اپنی اپنی الگ فوجیں قائم کی تھیں، آل ہاشم کے علم بردار زبیر بن عبد المطلب تھے اور اسی صف میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک تھے، بڑے زور کا معرکہ ہوا، اور قیس، پر قریش غالب آئے اور بالآخر صلح پر خاتمہ ہوگیا، اس لڑائی میں قریش کا رئیس اور سپہ سالار اعظم حرب بن امیہ تھا، جو ابوسفیان کا باپ اور امیر معاویہ کا دادا تھا۔


     چونکہ قریش اس جنگ میں بر سر حق تھے اور خاندان کے ننگ و نام کا معاملہ تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شرکت فرمائی ، لیکن جیسا کہ ابن ہشام نے لکھا ہے آپ نے کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا، امام سہیلی نے صاف تصریح کی ہے کہ انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جنگ نہیں کی ، ان کے الفاظ یہ ہیں:


    "وانما لم يقاتل رسول الله مع اعمامه في الفجار وقد كان بلغ سن القتال لانها كانت حرب فجار وكانوا ايضا كلهم كفارا ولم يأذن الله تعالى لمؤمن ان يقاتل الا لتكون كلمة الله هي العليا"_


    اور آپ نے اس لڑائی میں جنگ نہیں کی ، حالانکہ آپ لڑائی کی عمر کو پہنچ چکے تھے ، اس کی وجہ یی تھی کہ یہ لڑائی ایام الحرام میں پیش آئی تھی نیز یہ بھی کہ فریقین کافر تھے اور مسلمانوں کو لڑائی کا عمحکم صرف اس لئے خدانے دیا ہے کہ خدا کا بول بالا ہو۔“


 اس لڑائی کو فجار اس لئے کہتے ہیں کہ ایام الحرام میں یعنی ان مہینوں میں پیش کی تھی جن میں لڑنا نا جائز تھا۔






            🔴حلف الفضول🔴


      لڑائیوں کے متواتر سلسلہ نے سینکڑوں گھرانے برباد کر دیے تھے اور قتل اور سفا کی موروثی اخلاق بن گئے تھے۔ یہ دیکھ کر بعض طبیعتوں میں اصلاح کی تحریک پیدا ہوئی ، جنگ فجار سے لوگ واپس پھرے تو زبیر بن عبد المطلب نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور خاندان کے سرکردہ تھے یہ تجویز پیش کی چنانچہ خاندان ہاشم، زہرہ اور تیم عبد الله بن جدعان کے گھر میں جمع ہوئے اور معاہدہ ہوا کہ ہم میں سے ہر مظلوم کی حمایت کرے گا اور کوئی ظالم مکہ میں نہ رہنے پائے گا۔ 


     انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس معاہدہ میں شریک تھے اور عہد نبوت میں فرمایا کرتے تھے کہ معاہدہ کے مقابلہ میں اگر مجھ کو سرخ رنگ کے اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ بدلتا اور آج بھی ایسے معاہدہ کے لئے کوئی جائے تو میں حاضر ہوں“۔


اس معاہدہ کو حلف الفضول اس لئے کہتے ہیں کہ اول اول اس معاہدہ کا خیال جن لوگوں کو آیا، ان کے نام میں لفظ " فضيلت‘‘ کا مادہ داخل تھا۔ یعنی

 فضیل بن حرث

 فضیل بن وداعه

 اور مفضل، یہ لوگ جرہم اور قطورا کے قبیلہ کے تھے۔ اگرچہ یہ معاہدہ بے کار گیا اور کسی کو یاد بھی نہ رہا، چنانچہ قریش نے نئے سرے سے بنیاد ڈالی، تاہم بانی اول کو نیک نیتی کا شکر ملا کہ ان کے نام کی یادگار اب تک باقی ہے۔


≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠≠


سیرت النبی علامہ نعمان شبلی جلد ❶ 

      


                 🌹 ͜͡ ۝͜͡🌹



Comments

Popular posts from this blog

Ta'limul Quran Play 2026: Google Play Launch Update – Production Access Under Review

The latest update on Ta'limul Quran Play, its Google Play production access application, testing journey and what happens next. 🟢 Current Status: Production Access Under Review Ta'limul Quran Play has submitted its Google Play production access application and the application is currently under review. The app is not being presented here as publicly available in Google Play yet . Public availability will depend on the production access review and subsequent Google Play release steps. The earlier launch plan mentioned 15 September 2026 . That planned date has now passed, so this page has been updated with the latest Google Play production-access status instead of showing an outdated countdown. 📌 Important: This page will be updated when there is a confirmed change in the Google Play publishing status. We will not publish an unverified ...

How to Teach Arabic Letters to Kids: A Simple Step-by-Step Guide

How to Teach Arabic Letters to Kids: A Simple Step-by-Step Guide Teaching Arabic letters to children is one of the first steps toward helping them learn to read the Quran. For many parents, the challenge is not knowing what to teach, but knowing how to make Arabic learning simple, enjoyable, consistent, and meaningful . Children learn differently from adults. They often benefit from short lessons, repetition, audio, visual activities, tracing, games, encouragement, and regular practice. In this guide, you will learn a practical step-by-step method for teaching Arabic letters to children at home and preparing them for Noorani Qaida and Quran reading. Why Should Children Learn Arabic Letters? The Quran is written in Arabic, so learning to recognize Arabic letters is an important foundation for Quran reading. Arabic-letter learning can help children develop: Letter recognition Basic pronunciation skills Reading confidence Visual memory Quran-reading foundations Prepar...

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids 📖 Learn Quran • 🎮 Play • 🔤 Arabic Letters • 🕌 Tajweed • 🌙 Islamic Learning Learning the Quran is one of the most valuable parts of a child's education. However, children often learn better when lessons include listening, practice, repetition and interactive activities. Ta'limul Quran Play is an interactive Quran learning platform created to make Quran learning more engaging and practice-oriented for children and beginners. 🌙 What is Ta'limul Quran Play? Ta'limul Quran Play brings Quran learning, Arabic letters, Noorani Qaida, Tajweed concepts, pronunciation practice, educational games and revision activities into one child-friendly learning experience. The goal is simple: Learn → Listen → Practice → Remember . 🔤 1. Learn Arabic Letters – Huruf-e-Tahajji Arabic letters are the foundation of Quran reading. Ta'limul Quran Play includes interactive ways to help childr...

Quran Makhraj Challenge for Kids: Interactive Arabic Word Game

🎮 QURAN LEARNING GAME • 2026 Quran Makhraj Challenge for Kids Listen, recognize and practise Arabic words while improving Quran pronunciation, Makhraj awareness and reading confidence. What Is the Quran Makhraj Challenge? The Quran Makhraj Challenge is an interactive Arabic reading practice game designed for children, parents, Quran students and beginners. Players listen to an Arabic word and choose the matching word from four options. The activity combines listening, visual recognition and repetition. It can be used at home, in a Quran class, Islamic school, weekend madrasa or family learning session. 🌙 A simple learning idea: Listen → Look → Choose → Repeat → Improve Why Practise Arabic Makhraj? Correct pronunciation is an important part of learning to read the Quran. Regular practice can help chi...

How to Teach Quran to Kids at Home in 2026: A Complete 30-Day Quran Learning Plan for Parents

QURAN LEARNING GUIDE 2026 How to Teach Quran to Kids at Home in 2026: A Complete 30-Day Quran Learning Plan A simple, practical and child-friendly 30-day Quran learning roadmap for parents covering Arabic letters, Harakat, Noorani Qaida, Makharij, Tajweed and Quran reading. Teaching the Quran to a child is not simply about making them memorize words. The real goal is to help children recognize Arabic letters, pronounce them correctly, read with confidence and develop a lifelong connection with the Quran. For many parents, the biggest question is: “Where should I start?” School, homework, mobile phones and a busy family routine can make regular Quran learning difficult. But Quran learning does not have to begin with long study sessions. 🌙 The simple idea: Start small, practice consistently, revise regularly and make learning enjoyable. The exact pace shou...