Skip to main content

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ




                      ✨باذن اللہ تعالی✨


       *حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ*

ان کو قسطنطنیہ کی فصیل کے دامن میں دفن کیا جائے گا

اس جلیل القدر صحابی کا نام خالد بن زید تھا اور آپ بنو نجار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو ایوب تھی اور انصاری کہا جاتا تھا۔
مسلمانوں میں سے کون ہے جو ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی عظمت کا معترف نہ ہو۔
بلاشبہ اللہ تعالی نے شرق و غرب  میں ان کا نام بلند کر دیا اور انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ہجرت کرکے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو عارضی رہائش کے لیے ان کے گھر کو منتخب کیا۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر رسول اللہ ﷺ کے قیام کرنے کی داستان ایسی دلربا کہ بار بار بیان کرنے کو جی چاھتا ہے۔
جب نبیﷺ مدینہ پہنچے تو اہالیان مدینہ آپ کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آئے۔ وہ سب آپ کے لیے چشم براہ تھے۔ آپ کی آمد پر سب نے فراخی دل کا ثبوت دیا اور گھروں کے دروازے کھول دئے تاکہ جس گھر کو آپ پسند کریں، اس میں رہائش اختیار کر لیں' لیکن رسول ﷺ نے مدینہ کے قریب  وادی  قبا میں چند دن قیام کیا اور وہاں ایک مسجد کی بنیاد رکھی، یہ تاریخ اسلام کی وہ پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی جو آج مسجد قبا کے نام سے معروف ہے۔
وادئ قبا میں کچھ عرصہ قیام کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا۔یثرب کے سردار راستے میں کھڑے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ ہر ایک کی یہ دلی تمنا تھی کہ اسے رسول اللہ ﷺ کی میزبانی حاصل ہو۔
ہر شخص یہی آرزو کرتا کہ آپ ہمارے ہاں قیام پذیر ہوں ۔
آپ ہر ایک سے یہی ارشاد فرماتے:
میری اونٹنی کا راستہ چھوڑ دو' یہ اللہ کی جانب سے مامور ہے 
اونٹنی مسلسل چلتی رہی سب کی آنکھیں اس کی طرف تھیں  دلوں میں ایک ہی شوق سمایا ہوا تھا کہ کسی طرح اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہو جائے ۔
جب اونٹنی ایک گھر کے سامنے سے گزر جاتی تو اس گھر والے غمگین ہو جاتے ۔ اور اس سے اگلے گھر والوں کو امید نظر آنے لگتی ۔
لیکن وہ مسلسل چلتی رہی لوگ بھی اس کے پیچھے رواں دواں تھے ۔ ہر ایک کے دل میں یہ شوق بھی تھا کہ دیکھیں اونٹنی کیاں بیٹھتی ہے۔
ہوا یہ کہ اونٹنی حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے کھلی فضا میں بیٹھ گئی ۔
لیکن اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم اس سے نیچے نہیں اترے اس نے دوبارہ چلنا شروع کر دیا ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور وہ جلد ہی دوبارہ اپنی پہلی جگہ پر بیٹھ گئی ۔
اس پر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور اتنے خوش ہوئے جیسے دنیا کے خزانے ہاتھ لگ گئے ہوں۔ آپ کا سامان اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف چل دیئے ۔
آپ رضی اللہ عنہ کا گھر دو منزلہ تھا اوپر والی منزل کو خالی کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں قیام پذیر ہوں ' لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے والی منزل کو ترجیح دی اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے آپ کے حکم کی تکمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں رہنا پسند کیا وہاں پر ہی آپ کا انتظام کیا ۔
پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آرام کی غرض سے لیٹ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ اور آپ کی اہلیہ اوپر والی منزل میں تشریف لے گئے لیکن دل میں خیال آیا کہ یہ ہم نے کیا کر دیا؟
ہمارے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے آرام کریں گے اور ہم اوپر ؟
کیا ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چلیں پھریں گے؟
کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وحی کے درمیان حائل ہو ں گے ؟
یہ تو آپ کی خدمت اقدس میں گستاخی ہے   ہم تو برباد ہوں جائیں گے ۔ دونوں میاں بیوی انتہائی حیران و پریشان تھے ۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا کہ اب کیا کریں ۔ دلی سکون جاتا رہا !
پریشانی کے عالم میں دیوار کے ساتھ لگا کر بیٹھے رہے اور اس بات کا خیال رکھا  کمرے کے درمیان میں نہ چلیں۔
جب صبح ہوئی تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی :
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخدا آج رات ہم دونوں جاگتے رہے اور ایک لمحہ بھی نہیں سوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کیوں؟
عرض کیا' ہمارے دل۔میں احساس پیدا ہوا کہ ہم چھت کے اوپر ہیں اور آپ نیچے۔ ہم دیوار کے ساتھ چمٹ کر بیٹھے رہے کہ اگر ہم چھت پر چلیں گے تو چھت کی مٹی آپ پر پڑے گی ۔
جو آپ کے لئے ناگوار گزرے گی اور دوسری بات یہ کہ ہم آپ اور وحی کے درمیان حائل ہو گئے ہیں ۔
یہ باتیں سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ابو ایوب(رضی اللہ عنہ ) غم نہ کرو نیچے رہنا میرے لیے آسان اور آرام کا باعث ہے کیونکہ لوگ ملاقات کی غرض سے کثرت سے تشریف لاتے ہیں ۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان لیا لیکن ایک رات خشک رات ہمارا پانی کا مٹکا ٹوٹ گیا اور پانی چھت پر بہہ گیا ۔ میں اور میری بیوی جلدی جلدی سے لحاف سے پانی صاف کرنے لگے ۔کہ کہیں یہ پانی نیچے ٹپک کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ جائے ۔
جب صبح ہوئی تو میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا ۔
میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
میرے ماں باپ آپ ہر قربان ہوں' مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ہم اوپر رہیں اور اپ نیچے اور میں نے مٹکا ٹوٹنے کا واقعہ بھی سنایا ۔ آپ نے میری التجا کو قبول فرمایا اور آپ بلائے منزل پر چلے گئے اور ہم نیچے منتقل ہو گئے ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سات ماہ تک حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر رہے اور اتنے میں اس خالی جگہ پر ایک مسجد تعمیر ہو چکی تھی جہاں پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھی تھی ۔
اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان حجروں میں منتقل ہو گئے جو آپ کے لیے تعمیر کیے گئے تھے اور آپ نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کو ہمیشہ اپنے گھر جیسا ہی سمجھا ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے مسجد کی طرف جا رہے تھے ۔
دھوپ بہت تیز تھی راستے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ اس وقت یہاں کیسے  ؟
تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس وقت بہت بھوک لگی ہے  ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
بخدا میں بھی اسی بھوک کی وجہ نکل آیا ہوں ۔ دونوں یہی باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکل آئے ۔
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
آپ دونوں اس وقت یہاں کیسے؟
دونوں نے ایک ساتھ جواب میں کہا :
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھوک بہت زیادہ لگی ہوئی تھی ۔
آپ نے فرمایا :
اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ میں بھی اسی بھوک کی وجہ سے گھر سے  نکل آیا ہوں ۔پھر آپ نے فرمایا تم دونوں میرے ساتھ آؤ اور دونوں کو ہمراہ لے کر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر روانہ ہو گئے ۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روزانہ کھانا محفوظ رکھتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف نہیں لاتے تو اہل خانہ کو کھلا دیتے تھے 
جب دروازے پر پہنچے تو ام ایوب  رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:
کہ ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ وہ گھر کے قریب ہی نخلستان میں مصروف عمل تھے وہیں پر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز سنی تو دوڑتے ہوئے آئے ۔
سب سے پہلے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو خوش آمدید کہا اور عرض کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیر تو تھی ؟ آج آپ میرے غریب خانے پر اس وقت تشریف نہیں لائے جسے روزانہ لاتے ہیں۔
آپ نے فرمایا:
ہاں سچ ہے کہ آج کچھ تاخیر ہو گئی ۔
پھر حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ جلدی سے نخلستان کی طرف گئے اور کھجوروں کی ایک ٹہنی توڑ کر لائے جس پر کچھ خشک اور تر کھجوریں تھیں۔
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آپ نے یہ ٹہنی کیوں کاٹی آپ صرف خشک کھجوروں کو کاٹ لاتے ۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا یہ جی چاہتا ہے کہ آپ ہر قسم کی کھجوریں تناول کریں ۔
ابھی میں آپ کے لیے ایک جانور بھی ذبح کرتا ہوں ۔
آپ نے فرمایا:
دیکھو دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا ۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے بکری کا ایک بچہ پکڑا اور اس کو ذبح کر دیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ جلدی جلدی کھانا تیار کرو ۔
بیوی کھانے بنانے میں  مصروف ہو گئی اور نصف گوشت کا سالن تیار کیا اور نصف گوشت بھون کر پکایا ۔
جب کھانا تیار ہو گیا تو اللہ کے رسول اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے کھانا لگا دیا گیا ۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گوشت کا ٹکڑا روٹی پر رکھا اور ارشاد فرمایا:
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ یہ میری بیٹی فاطمہ کے پاس لے جاؤ کتنے دن سے اسے ایسا کھانا نصیب نہیں ہوا ۔پھر سب نے مل کھانا تناول کیا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نعمتیں اپنے سامنے دیکھ کر ارشاد فرمایا: ڑوٹی ، گوشت، تر ، اور خشک کھجوریں  یہ الفاظ کہے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہونے گئے اور ارشاد فرمایا:
*اللہ کی قسم! جس کے قبضے میں میری جان ہے ' یہی تو وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا جب تم کو کوئی ایسی نعمت ملے تو شروع میں بسم اللہ اور کھانے کے بعد ان الفاظ سے اللہ کا شکر ادا کرو ۔
الحمد لله الذي هو اشبعنا و أنعم علينا فأفضل.
ستائش ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں سیر کیا اور ہم پر اپنا انعام و فضل کیا ۔
بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے کہ کل ہمارے پاس آنا ۔
آپ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارک تھی کہ جب کوئی آپ سے حسن سلوک سے پیش آتا تو آپ اس کا بہتر بدل دیتے ۔
لیکن حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ کل ہمارے پاس آنا ۔
تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔
دوسرے دن آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایک نو عمر لونڈی دی اور فرمایا:
ابو ایوب اس سے نہایت اچھا سلوک کرنا کیونکہ جب سے یہ ہمارے پاس ہے ہم نے اس کو خوب نیکیاں کرنے والا پایا ہے ۔
جب ابو ایوب رضی اللہ عنہ گھر واپس تشریف لائے تو آپ کے ساتھ وہ لونڈی بھی تھی تو آپ کی بیوی نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے ؟
تو آپ نے بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہمیں بطور تحفہ عطا کی ہے ۔ تو آپ کی بیوی نے کہا کہ تحفہ دینے والے کتنے عظیم اور تحفہ کتنا عمدہ ہے ۔
آپ نے یہ بھی بتایا:
کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی تلقین کی ہے ۔
تو ان کی بیوی نے سوال کیا کہ ہم کیا کریں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر کیسے عمل۔کریں؟
 حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے خیال میں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر اسی طرح عمل ہو سکتا ہے کہ ہم اس کو آزاد کر دیں ۔
وہ بولیں، آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔
اللہ تعالی آپ کو توفیق دے تو آپ اس کو آزاد کر دیں ۔
پھر اسکو آزاد کر دیا گیا ۔
یہ تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی امن کی زندگی کا ایک درخشاں پہلو ہے ۔ اگر زمانہ جنگ میں آپ کے بعض پہلوؤں کا ذکر کریں تو آپ حیران رہ جائیں گے ۔حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ زندگی بھر غازی بن کر رہے ۔
آپ کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک آپ ساری جنگوں میں شریک تھے ۔
آپ کی آخری جنگ وہ ہے جس میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کی قیادت میں ایک لشکر قسطنطنیہ روانہ کیا تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اس وقت عمر رسیدہ تھے لیکن آپ جنگ میں خوشی کے ساتھ شامل ہوئے تھے ۔ اور اللہ کی راہ میں سمندر کی موجیں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے ۔
دشمن کی لڑائی میں ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ آپ بیمار ہو گئے اور جنگ میں شریک نہ ہو سکے ۔
سپہ سالار آپ کی تیمارداری کے لیے آئے تو پوچھا کہ کوئی خواہش ہو تو بتائیں؟
کیا مجاہدین کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ دشمنوں کی سرزمین میں پیش قدمی کرتے ہوئے آخری حد تک پہنچنا اور میری لاش کو اپنے ساتھ
لے کر قسطنطنیہ کی آخری دیوار کے پاس دفن کرنا اور اللہ کو پیارے ہو گئے 
مجاہدین نے ان کی تجویز پر عمل کیا اور دشمن سے آخری حد تک لڑتے رہے اور کامیاب ہو گئے اور حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا جسم خاکی ساتھ اٹھائے ہوئے تھے ۔ اور ان کو قسطنطنیہ کے قریب ہی دفن کر دیا ۔
اللہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ پر رحم کرے   آپ نے اللہ کی راہ میں آخری دم تک جہاد کیا ۔
🌴بارک اللہ فیکم🌴
===========>ختم شدہ۔

طالب دعا۔۔ لقمان قاسمی

Comments

Popular posts from this blog

Ta'limul Quran Play 2026: Google Play Launch Update – Production Access Under Review

The latest update on Ta'limul Quran Play, its Google Play production access application, testing journey and what happens next. 🟢 Current Status: Production Access Under Review Ta'limul Quran Play has submitted its Google Play production access application and the application is currently under review. The app is not being presented here as publicly available in Google Play yet . Public availability will depend on the production access review and subsequent Google Play release steps. The earlier launch plan mentioned 15 September 2026 . That planned date has now passed, so this page has been updated with the latest Google Play production-access status instead of showing an outdated countdown. 📌 Important: This page will be updated when there is a confirmed change in the Google Play publishing status. We will not publish an unverified ...

How to Teach Arabic Letters to Kids: A Simple Step-by-Step Guide

How to Teach Arabic Letters to Kids: A Simple Step-by-Step Guide Teaching Arabic letters to children is one of the first steps toward helping them learn to read the Quran. For many parents, the challenge is not knowing what to teach, but knowing how to make Arabic learning simple, enjoyable, consistent, and meaningful . Children learn differently from adults. They often benefit from short lessons, repetition, audio, visual activities, tracing, games, encouragement, and regular practice. In this guide, you will learn a practical step-by-step method for teaching Arabic letters to children at home and preparing them for Noorani Qaida and Quran reading. Why Should Children Learn Arabic Letters? The Quran is written in Arabic, so learning to recognize Arabic letters is an important foundation for Quran reading. Arabic-letter learning can help children develop: Letter recognition Basic pronunciation skills Reading confidence Visual memory Quran-reading foundations Prepar...

Quran Makhraj Challenge for Kids: Interactive Arabic Word Game

🎮 QURAN LEARNING GAME • 2026 Quran Makhraj Challenge for Kids Listen, recognize and practise Arabic words while improving Quran pronunciation, Makhraj awareness and reading confidence. What Is the Quran Makhraj Challenge? The Quran Makhraj Challenge is an interactive Arabic reading practice game designed for children, parents, Quran students and beginners. Players listen to an Arabic word and choose the matching word from four options. The activity combines listening, visual recognition and repetition. It can be used at home, in a Quran class, Islamic school, weekend madrasa or family learning session. 🌙 A simple learning idea: Listen → Look → Choose → Repeat → Improve Why Practise Arabic Makhraj? Correct pronunciation is an important part of learning to read the Quran. Regular practice can help chi...

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids

Ta'limul Quran Play – Interactive Quran Learning Games for Kids 📖 Learn Quran • 🎮 Play • 🔤 Arabic Letters • 🕌 Tajweed • 🌙 Islamic Learning Learning the Quran is one of the most valuable parts of a child's education. However, children often learn better when lessons include listening, practice, repetition and interactive activities. Ta'limul Quran Play is an interactive Quran learning platform created to make Quran learning more engaging and practice-oriented for children and beginners. 🌙 What is Ta'limul Quran Play? Ta'limul Quran Play brings Quran learning, Arabic letters, Noorani Qaida, Tajweed concepts, pronunciation practice, educational games and revision activities into one child-friendly learning experience. The goal is simple: Learn → Listen → Practice → Remember . 🔤 1. Learn Arabic Letters – Huruf-e-Tahajji Arabic letters are the foundation of Quran reading. Ta'limul Quran Play includes interactive ways to help childr...

How to Teach Quran to Kids at Home in 2026: A Complete 30-Day Quran Learning Plan for Parents

QURAN LEARNING GUIDE 2026 How to Teach Quran to Kids at Home in 2026: A Complete 30-Day Quran Learning Plan A simple, practical and child-friendly 30-day Quran learning roadmap for parents covering Arabic letters, Harakat, Noorani Qaida, Makharij, Tajweed and Quran reading. Teaching the Quran to a child is not simply about making them memorize words. The real goal is to help children recognize Arabic letters, pronounce them correctly, read with confidence and develop a lifelong connection with the Quran. For many parents, the biggest question is: “Where should I start?” School, homework, mobile phones and a busy family routine can make regular Quran learning difficult. But Quran learning does not have to begin with long study sessions. 🌙 The simple idea: Start small, practice consistently, revise regularly and make learning enjoyable. The exact pace shou...